اللہ پر ایمان

اللہ پر ایمان محض ایک نظری تصور یا ذہنی مشغلہ نہیں، بلکہ یہ ہر انسان کی اندرونی فطرت میں بسا ہوا ہے۔ خواہ انسان شهوات میں کھو جائے یا مادّیات میں مصروف ہو، جب مصیبت آتی ہے تو وہ اپنے خالق کی طرف پلٹتا ہے اور اسی کی پناہ مانگتا ہے، کیونکہ اندرونی عقل یہ سمجھتی ہے کہ اس کائنات کا کوئی قادر مالک ضرور ہے اور اس کی موجودگی محض اتفاق نہیں ہوسکتی۔

عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اس محدود دنیا کی ہر چیز کو کوئی پیدا کرنے والا چاہیئے؛ انسان کے نطفہ سے مکمل انسان بننے کی شگفتہ ترتیب، کائنات کا منظم نظام، چیزوں کے درمیان بنے ربط یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس وجود کے پیچھے ایک جاننے والا اور حکمت والا خالق ہے۔ سلیمِ عقل کے لئے یہ سوچنا مشکل ہے کہ مادّہ نے خود کو پیدا کیا یا اتفاق نے اس خوبصورت نظام کو وجود میں لایا۔

اللہ کا علم آیاتِ کبریائی اور قرآنِ مجید کی رہنمائی سے حاصل ہوتا ہے جو فطرت اور عقل دونوں سے مخاطب ہوتی ہیں۔ جب مومن جان لیتا ہے کہ اللہ ہی اس کائنات کا خالق اور مالک ہے، تو وہ اس کی توحید میں ڈھل جاتا ہے؛ اللہ کے ساتھ کسی کو شریکِ عبادت نہیں مانتا، اور نفع یا ضرر صرف اسی سے مانگتا ہے، بالخصوص انبیاء علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جنہوں نے اپنے دل اور اعمال کو صرف اللہ کے لیے وقف کیا۔

سچے ایمان کا اظہار مومن کے عمل اور اخلاق میں نظر آتا ہے؛ یہ محض قلبی عقیدہ تک محدود نہیں بلکہ فرمانِ الٰہی کی پیروی میں ظاہر ہوتا ہے۔ اللہ سے محبت اور اللہ کا خوف عبادت کی روح ہیں جو مومن کی زندگی کو نیک اعمال کی مسلسل زنجیرد بناتے ہیں؛ اسی خالص نیت اور اخلاص کے ساتھ روزمرہ کے کام بھی عبادت بن جاتے ہیں، اور مومن اسی راہ پر چلتا ہے جو نبی محمد ﷺ نے دکھائی۔

الإيمان بالله ليس مجرد فكرة نظرية أو ترفاً عقلياً، بل هو فطرة راسخة في أعماق كل إنسان. إن النفس البشرية، مهما حاول المرء حجبها بالشهوات أو غطّاها بالانشغال بالماديات، تعود عند الشدائد والأخطار لتنادي خالقها وتلجأ إليه، مدركةً بعقلها الباطن أن لهذا الكون رباً قديراً، وأن وجودها لا يمكن أن يكون مصادفة محضة بلا صانع.

يعلمنا العقل أن كل شيء في هذا الكون المحدود يحتاج إلى مُوجد، فالتفكر في عظمة خلق الإنسان من نطفة إلى إنسان متكامل، والنظام الدقيق الذي يسير عليه الكون، والروابط بين الأشياء؛ كل ذلك يقطع بأن وراء هذا الوجود إلهاً عليماً حكيماً. إن العقل السليم يقف عاجزاً عن تصور أن المادة خلقت نفسها أو أن المصادفة أوجدت هذا النظام البديع.

إن معرفة الله تأتي من خلال التأمل في آياته الكونية والقرآنية التي تخاطب الفطرة والعقل معاً. فعندما يدرك المسلم أن الله هو الخالق والمالك لهذا الكون، فإنه يوحده في ألوهيته، لا يشرك معه أحداً في عبادته، ولا يطلب النفع أو دفع الضر إلا منه، متأسياً في ذلك بمسيرة الأنبياء عليهم السلام الذين وجهوا قلوبهم وأعمالهم لله وحده.

يظهر الإيمان الصادق في عمل المؤمن وسلوكه، فهو لا يقتصر على العقيدة القلبية، بل يتجلى في الطاعة والامتثال لأوامر الله. إن حب الله وخوفه هما روح العبادة التي تحول حياة المؤمن إلى سلسلة متصلة من الأعمال النافعة، حيث يتحول العمل اليومي العادي بصدق النية والإخلاص إلى عبادة يبتغي بها المؤمن وجه ربه، متبعاً في ذلك ما جاء به النبي محمد ﷺ.